sufi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
sufi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 28 دسمبر، 2014

طبیب

دور،،، فسوں ساز، اداس سی، بجتی شہنائی ھے
کہاں؟،، رخصار دل فگار کی، غائب رعنائی ھے

ڈوب رہا ہے دل،
رات اب آئی ھے
تری خاطر غم طراز
دیکھ شاہراہ سجائی ھے

کون سی سواری پر ھے
کہاں تک تو آئی ھے
جینا دشوار ہوا،
نظر دھندلائی ھے

مدھ بھری آنکھ، مشہور مسیحائی ھے
سن کر ترا نام،دیکھ خلقت اٹھ آئی ھے
خراب حال میں، خراماں چال تو
مری قسمت میں کیا، لکھی رسوائی ھے

اتنی مشکل بھی نہیں یہ راہ گزر
جتنی ہرجائی، تو  نے بتائی ھے

'چھیتی دوڑ     وے طبیبا  ،نی تے میں مر گی یاں'

ہفتہ، 6 ستمبر، 2014

مجذوب


مرے یار کے سینے میں
رازداروں کا علوم ھے

کچھ پل اور بِتانے دو
کہ دل بہت مغموم ھے

کوئی بات تو ہوگی یعنی
یاں اتنا جو ہجوم ھے

آئے ہیں خستہ حال سبھی
معمار کی بہت دھوم ھے

اسے راکھ نہ بولو ناظر
آگ تھی، جو معدوم ھے

بات جو مست کرگئی  محفل
اُسی ہاتھ سے مرقوم ھےTop of Form




اتوار، 13 جولائی، 2014

تیرا بندہ

سنسان سا کوئی مندر ہوں
میں عبرت کا اک منظر ہوں
راکھ سہی
بےتاب سہی
میں غلطی پر ہوں لاکھ سہی
پر ہوں تو تیرا بندہ ہوں

ٹوٹا بھکرا تارا ہوں
جوگی بن آوارہ ہوں
الجھا سلجھا دھاگا ہوں
گرتا پڑھتا مارا ہوں
بے مطلب، بے چارہ
بن منزل میں سیّارہ ہوں

بن قبلہ اپنا کعبہ ہوں
دھوکہ ہوں دھتکارا ہوں
بےساکھی بن بےسہارا
ساقی ہوں، ناکارہ ہوں

گمراہ چلتا تنہا ہوں
میں الٹی بہتی گنگا ہوں
راکھ سہی
بےتاب سہی
میں غلطی پر ہوں لاکھ سہی
پر ہوں تو تیرا بندہ ہوں


ہفتہ، 5 اپریل، 2014

دعا کے لیئے ہاتھ

دعا کے لیئے ہاتھ
کبھی نہ اٹھاؤنگا
ذکرِ حاجات
لب پہ نہ لاؤنگا
ترے سامنے آواز اٹھاوں
اتنا میرا دل نہیں
ہاں،
 دل ہی دل میں سب گفتگو کر جاؤنگا

مسجد میں پیونگا
نماز میخانے میں
زاہد کو بےخودی
آسی کو ترغیب ملے گی
کافر کافر کہتے ہیں ترے بندے
تو جنت دے دے یا رب
دیکھ،،کتنوں کو امید ملے گی

تو جب جب بلائے گا
میں اور دور چلا جاؤنگا
دیکھ تو ذرا، رش ترے چاہنے والوں کا
اس لیئے ڈونڈتا ہوں رستہ
تری نظر میں آنے کا


جنت کا ہمیں کوئی شوق نہیں
عیّاش نہیں ہم، ایسا ذوق نہیں
ہاں
آپ سے ملنا ہے
بتایئے کہاں آنا ہے
سر کے بل آئیں
یا ماتھا تکا کے آنا ہے
سنا ہے
آپ بہشت میں جلوہ دیکھاتے ہیں
تو بتایئے کب آنا ہے

بلند داوے کرتے ہیں
باتیں گھڑتے ہیں
پر اے خدا تری قسم
پیار کرتے ہیں

تبھی کرتے ہیں

جمعہ، 4 اپریل، 2014

لاڈلا ہوں

کیفیتِ جنوں ہے یا حالتِ بیداری ہے
سب نے چن لی وہ، جو حالت اُسے پیاری ھے

سجا کے رکھتے ہیں داغوں کو سامنے
جو دیکھ جائے بھلا کیسی پرہیزگاری ھے
میرے حلیے سے دھوکہ نہ کھا زاہد
(شاید) میں نے اک عمر سجدے میں گزاری ھے
میں بھی لاڈلا ہوں، خدا کا ۔۔۔

اے اللہ
شرمساری میری آنے نہیں دیتی
نسبت پرانی جانے نہیں دیتی
ترے در کے باہر، جاں ترے حوالے
کسی ولی کو کہہ کر مجھے بلالے

ہمیں چھوڑ کر جنوں میں
اکیلے چلے جاتے ہیں
ہمیں بلانے والے
کدھر چلے جاتے ہیں؟
تجھے خود اٹھ کر آنا پڑھے گا یا رب
اس بندے کے نخرے زیادہ ہیں

کہتا ہے

لاڈلا ہوں، خدا کا

منگل، 1 اپریل، 2014

خاکی

میں کچھ بھی نہیں، ہاں، کچھ نہیں ہوں
خاکم بدھن، خاک جسم اور کچھ نہیں ہوں

نازِ طاقتِ بازو نہیں
طاقِ پروازِ خرد نہیں
زمین بوس ہوں
امید دوش ہوں
مخدوش ہوں
مدہوش ہوں
اور کچھ نہیں

حقیقت میں حقیر
صفت میں فقیر
امتحان ہوں
نسیان ہوں
بھول ہوں
انسان ہوں
اور کچھ نہیں

نقشہِ کائنات میں
ذرہِ مبہم ہوں
فانوسِ ابر پر
شمع معدوم ہوں

بحرِ بے کراں میں
قطرہِ بسمل ہوں
لوحِ ازل میں پھیلا
نقطہِ منتشر ہوں
اور کچھ نہیں

ساقط ہوں، سکوت ہوں
جامد ہوں،  جمود ہوں
شورِ ہستی کے بھنور میں
گھٹی آواز ہوں
خاموش پکار ہوں
اور کچھ نہیں

دقیق زیست میں
عمیق پریت ہوں
طریق کی ریت ہوں
دبا ہوں
ڈوبا ہوں
اس لئے
زمین بوس ہوں
اس لئے
خاک ہوں
خاک ہوں
خاک ہوں
اور کچھ نہیں


پیر، 31 مارچ، 2014

ہمیں دیوار سے لگا کر

داستانِ فرداہم سنانے لگے ہیں
فردا فردا کیوں افراد آنے لگے ہیں


پی کر غمِ دردہ ہم لہرانے لگے
بے وجہ آپ کیوں گھبرانے لگے ہیں


غمِ دو جہاں کی لذت
بڑی قلیل یہ زیست ہے
یہ سن کے ہیں پریشان
در در ٹھکرانے لگے ہیں


دل پہ رکھے ہیں ہاتھ
ہاتھ بھی کپکپانے لگے ہیں
سنبھل نہ سکیں گے دل میں غم
اب عالم میں آنے لگے ہیں


راز تو فاش ہوگا
ندامت کا کیا کریں گے
کچھ آن سے سجالیں
جو بات چھپانے لگے ہیں


عشق میں ڈوبنا پڑھے گا
جان تو دیکھ جائے گی
ہمیں دیوار سے لگا کر
وہ کام کروانے لگے ہیں


ہم بے دلی سے انکے ہوئے
وہ اعتراز اٹھانے لگے ہیں
احسان مند نگاہیں دیکھا کر
اب آپ اپنانے لگے ہیں


نہ ہو انکے تو درد ھے
انکے ہونے میں درد ھے
کیوں نہ پھر عشق کے مزے لیں
یہ بات وہ سمجھانے لگے ہیں


ہمیں دیوار سے لگا کر
وہ کام کروانے لگے ہیں


اتوار، 30 مارچ، 2014

حرکت میں دیکھ ،، سیّارہ بھی ھے

حرکت میں دیکھ ،، سیّارہ بھی ھے
پہنچا کہیں، وہ بےچارہ بھی ھے؟

میرے اعمال کے جمود پر
میرے افکار کے سکوت پر
کیوں بے وجہ بولا کرتے ہو
اپنے بےربط پیمانوں سے کیوں ہم کو طولا کرتے ہو

میں بھی گردش میں لگ جاؤں کیا ؟
کسی انجان سمت پڑھ جاؤں کیا ؟
تم جھوٹا آنسو پونچھو گے اور جانتا ہوں جو بولو گے

روکا تھا اور، پکارا بھی ھے
گاہ گاہ اُسے، دیا اشارہ بھی ھے
پر گمراہوں کا، کوئی چارہ بھی ھے؟

دیوانہ تھا اب دیکھ، آوارہ بھی ھے

جمعہ، 28 مارچ، 2014

عالمِ نا آگاہی


محفلِ مستیِ جہاں رواں ھے
کوئی بتلائے انساں کہاں ھے

بے خودی کا یہ صلہ ملا
نہ خودی ملی نہ خدا ملا
نہ بت کدہ کو صنم ملا
نہ مے کدہ کا غم ملا
عجب عالمِ نا آگاہی ملی
ملا تو خود سے کم ملا


جمعرات، 27 مارچ، 2014

پل بھر کی زیست

یہ کیسا سمندر ہے
یہ کیسی ناؤ ہے
جو کہہ رہی ہے
تغیّر میں ٹھراؤ ہے

جو کہہ رہی ہے
یقین کر میرا
بے یقینی میں ایمان ہے
بے نامی میں پہچان ہے
بے خبری میں گیان ہے

یہ کہہ رہی ہے
منزل، سفر کا نام ہے
زیست، پل بھر کی گام ہے

منگل، 25 مارچ، 2014

جام



تاریک راہوں میں سنبھل کے آ

دھر کی بدحالی سے دامن بچائے

نظر نہ لگ جائے، دیکھ میرے جام کو

لا ! اپنی نظروں کو ذرا جھکائے

پیر، 24 مارچ، 2014

بے خبری کا زوال آیا

ابھی ابھی ،،
بس ابھی ابھی یہ خیال آیا
لو ،،، بے خبری کا زوال آیا !

جان جا چکی تھی، وقتِ وصال
تب ہوش آیا ،،، وبال آیا !

چھین لی یوں بے رخی سے زندگی
موت دے دی جب کمال آیا ؟!

(عادل ہ منصف ،، یہ انصاف دیکھ لے)

خرد سنبھال نے کی تو دے فرصت
ملزم بہت پامال آیا
پریشان ھے، بد حال آیا

(اور)
لا کر کٹہرے میں کیا مجھ کو بند
پابند کیا جواب کا، بندہ جب نڈھال آیا ؟!

میں تو،
شوق دید میں گم تھا
اسیرِ لحن تھا، صُم تھا
دفاع کیا پیش کرتے، ہم
سنتے ہی رہ گیے، جب سوال آیا

فیصلہ صادر ہوا اور خیال آیا
خیال ۔۔۔
خیال ؟
لو ،، ہوش کو زوال آیا



جناب کی منطق


جان پہ بنی تو، جانِ جاں بن کے آگئے
مری جان کو مشکل بنا کر
وہ مہربان بن کے آگئے

مزاج سب کا الگ ہوتا ھے
ملنسار کوئی محتاط ہوتا ھے
پہلے ہی دام پر بک جایئں کیا؟
بھلا ایسے کوئی کاروبار ہوتا ھے

ہم تو سنتے ہیں دل کی
اور دل ھے، عطا انکی
تو دل میں گر وہ نہ ہوں
بتایئے کس کی خطا ھے حضرت

آپ کے طرز میں کبر ھے
مری فطرت میں حقارت
تو یہ جو دوری ھے مابین ہمارے 
بتایئے کس کے سبب ھے حضرت


ہفتہ، 22 مارچ، 2014

خاک ہوں

دکھیائے آئے، پیتم ہم، پیاسے ترے پاس


میخانہ اپنا کھول دے،بجھا میخوار کی آس

خاک ہوں
کیا خاک اڑے گا خاکی
مجھے پرواز دے
چلا بادِ بہار، اے ساقی

لا وہ جام
وہ بادہ
بعد جس کے
باقی نہ رہے بعد، اے ساقی

پلا نظروں
ہاں پلا
نہ شرما
اے ساقی

ٹوٹ جائیں پیمانے
حدوں کے معنے
گر جائیں قدموں میں
ایسے سجدے کرا
اے ساقی

مست نگاہی کا
پلانے کے سوا
اور مقصد ہی کیا ھے

اک سرور ھے
غمِ عشق میں
اور رکھا ہی کیا ھے