پیر، 7 اپریل، 2014

دم گُھٹنے لگے جب دنیا کے خیابانوں میں

دم گُھٹنے لگے جب دنیا کے خیابانوں میں
سانس لینے چلے جانا دور ویرانوں میں

غرق ہو جائے جب زندگی پیمانوں میں
ڈوب جانا کہیں پھر ڈوبتے نظاروں میں

اتوار، 6 اپریل، 2014

تم ہی بتاؤ ہم کیا کریں

عشق کیا ھے، فرصت سے دیکھ لینا
تمھارے پاس ہی، دل چھوڑ آیا ھوں

کھینچ لائی ھے تری محبت یہاں
بن سنور کسی کو چھوڑ آیا ھوں

ہمارے خلاف فیصلہ
بےشک سنا دینا
اتنا تو حق ھے ہمھیں
ہمھیں بھی بتا دینا
پھانسی لگادی آپ نے،
زلفوں کو پھیلا کر
چادر میں جب چھپاؤ
ہمھیں بھی دفنا دینا

بات،،اتنی سی تھی،
کیا خبر آپ بگڑ جایئں گے
ہم نے فقط کہا تھا
حد سے گزر جایئں گے
گر نہ کریں اب تو بے عمل کہو گے

کر گیئے تو، نظروں سے گِر جایئں گے

ہفتہ، 5 اپریل، 2014

دعا کے لیئے ہاتھ

دعا کے لیئے ہاتھ
کبھی نہ اٹھاؤنگا
ذکرِ حاجات
لب پہ نہ لاؤنگا
ترے سامنے آواز اٹھاوں
اتنا میرا دل نہیں
ہاں،
 دل ہی دل میں سب گفتگو کر جاؤنگا

مسجد میں پیونگا
نماز میخانے میں
زاہد کو بےخودی
آسی کو ترغیب ملے گی
کافر کافر کہتے ہیں ترے بندے
تو جنت دے دے یا رب
دیکھ،،کتنوں کو امید ملے گی

تو جب جب بلائے گا
میں اور دور چلا جاؤنگا
دیکھ تو ذرا، رش ترے چاہنے والوں کا
اس لیئے ڈونڈتا ہوں رستہ
تری نظر میں آنے کا


جنت کا ہمیں کوئی شوق نہیں
عیّاش نہیں ہم، ایسا ذوق نہیں
ہاں
آپ سے ملنا ہے
بتایئے کہاں آنا ہے
سر کے بل آئیں
یا ماتھا تکا کے آنا ہے
سنا ہے
آپ بہشت میں جلوہ دیکھاتے ہیں
تو بتایئے کب آنا ہے

بلند داوے کرتے ہیں
باتیں گھڑتے ہیں
پر اے خدا تری قسم
پیار کرتے ہیں

تبھی کرتے ہیں

جمعہ، 4 اپریل، 2014

لاڈلا ہوں

کیفیتِ جنوں ہے یا حالتِ بیداری ہے
سب نے چن لی وہ، جو حالت اُسے پیاری ھے

سجا کے رکھتے ہیں داغوں کو سامنے
جو دیکھ جائے بھلا کیسی پرہیزگاری ھے
میرے حلیے سے دھوکہ نہ کھا زاہد
(شاید) میں نے اک عمر سجدے میں گزاری ھے
میں بھی لاڈلا ہوں، خدا کا ۔۔۔

اے اللہ
شرمساری میری آنے نہیں دیتی
نسبت پرانی جانے نہیں دیتی
ترے در کے باہر، جاں ترے حوالے
کسی ولی کو کہہ کر مجھے بلالے

ہمیں چھوڑ کر جنوں میں
اکیلے چلے جاتے ہیں
ہمیں بلانے والے
کدھر چلے جاتے ہیں؟
تجھے خود اٹھ کر آنا پڑھے گا یا رب
اس بندے کے نخرے زیادہ ہیں

کہتا ہے

لاڈلا ہوں، خدا کا

جمعرات، 3 اپریل، 2014

دیکھ لی ہر بستی سجائی ھوئی

جسم پہ ھے لرزاں
آواز تھرائی ھوئی
اتنی توفیق نہ تجھے
مرے ہرجائی ھوئی
پوچھ لیتا کیوں آخر
یہ حالت ھے بنائی ھوئی

وە سیاە زلف ہاتھوں سے چھوٹ گئی
کیوں سیاە  رات پہ سوئی اٹکائی ھوئی

کہاں کائنات میں ملتی ھے الفت

دیکھ لی ہر بستی سجائی ھوئی

بدھ، 2 اپریل، 2014

خانہ بدوشی

" کیا خبر تھی یہ خانہ بدوش کو
کہ ڈھونڈنے چلا ھے یہ ہوش کو

خانہ بدوش !!
رختِ سفر باندھ لیا اور
ہوش مندی کا نام نہیں ھے ؟
دیوانگی آسان نہیں ہوتی "

مجھے دیوانہ ہی رہنے دے ۔۔۔
او دانا،، شکریہ
مجھے بیگانہ ہی رہنے دے

(کیوں؟)
عالم میں فتنہ دیکھا ھے؟
دلوں کا اندھیرا دیکھا ھے؟
درندگی دیکھی ھے؟
انساں کا چہرہ دیکھا ھے ؟
اور دیکھوں میں !؟
وہ تصویر کہ جس میں
ظاہر ہو سب ،، کچھ چھپا     نہیں ھے
ہوش مندی آسان نہیں ہوتی

منگل، 1 اپریل، 2014

خاکی

میں کچھ بھی نہیں، ہاں، کچھ نہیں ہوں
خاکم بدھن، خاک جسم اور کچھ نہیں ہوں

نازِ طاقتِ بازو نہیں
طاقِ پروازِ خرد نہیں
زمین بوس ہوں
امید دوش ہوں
مخدوش ہوں
مدہوش ہوں
اور کچھ نہیں

حقیقت میں حقیر
صفت میں فقیر
امتحان ہوں
نسیان ہوں
بھول ہوں
انسان ہوں
اور کچھ نہیں

نقشہِ کائنات میں
ذرہِ مبہم ہوں
فانوسِ ابر پر
شمع معدوم ہوں

بحرِ بے کراں میں
قطرہِ بسمل ہوں
لوحِ ازل میں پھیلا
نقطہِ منتشر ہوں
اور کچھ نہیں

ساقط ہوں، سکوت ہوں
جامد ہوں،  جمود ہوں
شورِ ہستی کے بھنور میں
گھٹی آواز ہوں
خاموش پکار ہوں
اور کچھ نہیں

دقیق زیست میں
عمیق پریت ہوں
طریق کی ریت ہوں
دبا ہوں
ڈوبا ہوں
اس لئے
زمین بوس ہوں
اس لئے
خاک ہوں
خاک ہوں
خاک ہوں
اور کچھ نہیں