اتوار، 14 ستمبر، 2014

الفاظ

قید ہر شئی ہے جذبات میں یہاں
الفاظ دے کر مجھے آزاد کیا تو نے

اتوار، 7 ستمبر، 2014

سفرِِ مسلسل کے مسافر


اے سفرِِ مسلسل
ٹھر ایک پل
ٹھر!
کہ ایک پل میں رہ گئے ہیں
کچھ بےسمت مسافر
بحربیکراں سے بیزار ہو کر
گمشدگی کی آس لیے
تکھے تھکے سے بدحواس مسافر
اپنے سایے کا سہارا لئے
فنائیت میں بقا کا دلاسہ لئے

انکے لئے ٹھر

ہفتہ، 6 ستمبر، 2014

مجذوب


مرے یار کے سینے میں
رازداروں کا علوم ھے

کچھ پل اور بِتانے دو
کہ دل بہت مغموم ھے

کوئی بات تو ہوگی یعنی
یاں اتنا جو ہجوم ھے

آئے ہیں خستہ حال سبھی
معمار کی بہت دھوم ھے

اسے راکھ نہ بولو ناظر
آگ تھی، جو معدوم ھے

بات جو مست کرگئی  محفل
اُسی ہاتھ سے مرقوم ھےTop of Form




اتوار، 31 اگست، 2014

سہارے


الجھن ایک،  اوجھل ھے
سینہ سارا،  بوجھل ھے

اک اَنا ھے جس کی رضا نہیں
پر من کو تو منع نہیں
لکھ بھیجو کی سامان نہیں
جس کے سہارے جی سکیں

گھر کی یاد


ہوش کے آخری دہانے
آرزو کے نت نئے بہانے
ہر شب، گھر کا منظر
اور صبحدم پھر ویرانے

یہ معمول سا بن گیا ھے
یہ سراب سے خواب
یہ خواب سی خواہشیں
دھوپ سے آنکھ کھولنے کو ھے
من گھڑت منظر مٹنے کو ھے

اتوار، 13 جولائی، 2014

تیرا بندہ

سنسان سا کوئی مندر ہوں
میں عبرت کا اک منظر ہوں
راکھ سہی
بےتاب سہی
میں غلطی پر ہوں لاکھ سہی
پر ہوں تو تیرا بندہ ہوں

ٹوٹا بھکرا تارا ہوں
جوگی بن آوارہ ہوں
الجھا سلجھا دھاگا ہوں
گرتا پڑھتا مارا ہوں
بے مطلب، بے چارہ
بن منزل میں سیّارہ ہوں

بن قبلہ اپنا کعبہ ہوں
دھوکہ ہوں دھتکارا ہوں
بےساکھی بن بےسہارا
ساقی ہوں، ناکارہ ہوں

گمراہ چلتا تنہا ہوں
میں الٹی بہتی گنگا ہوں
راکھ سہی
بےتاب سہی
میں غلطی پر ہوں لاکھ سہی
پر ہوں تو تیرا بندہ ہوں


جمعرات، 3 جولائی، 2014

لوگ

جنگی بنیادوں پر امن لانے والے
محبت کے زور پہ بات منوانے والے
دردمندی سے درد کو پھیلانے والے
جان لیکے، اپنی جان دینے والے

مختلف ہاتھوں میں یک کاسہ لیے ہو
تم جدا سہی، تنہا نہیں ہو۔

جینے کے خوف سے مر جانے والے
پرچھایوں سے اپنی ڈر جانے والے
حق کی تلاش میں کھو جانے والے


تم تنہا سہی، جدا نہیں ہو۔