بدھ، 15 اکتوبر، 2014

چنگاریاں

آ،
کہ تڑپ رہی ہیں مجھ میں
پراصرار چنگاریاں
ہولے۔۔۔ ہولے بول،
کی سن رہی ہیں میری بےتابیاں
سنبھل ۔۔۔ اے دوست سنبھل !!
کہ مٹ چکی ہیں پہلے بھی شناسائیاں

اب صحرا اور گلشن کرینگے سرگوشیاں
کہ پَر طول رہی ہیں میری شوخیاں
پرواز کرے گی آواز مری
دستک دیگی سوز و گداز مری
اور جاگ اٹھیںگے  سب سوزوساز
قفس میں بلبل کی انگڑائیاں
ظلم  و جبر سے بےنیاز

اور تم کہتے ہو، 'تھام لوں زبان
کہ ہو رہی ہیں تجھ سے گستاخیاں
یہ چنگاری ہے، اڑ جائیگی'
میں کہتا ہوں، ساری دنیا جل جائیگی
اور بول اٹھیگیں خاموشیاں

جمعرات، 2 اکتوبر، 2014

آتش فشاں

اک آتش فشاں پھٹنے کو ھے
یہ شہر، یہاں سے دور بھی
نفرت کا دھواں پھیلے گا
اکڑی گردن، ترچھی نگاہیں
سہمے دل، بلند آوازوں سے
تعصب کے، وفاداری کے
بیہودہ سوال پوچھیں گے
اور امتیاز کے ترازو
عجلت میں بنائے جائیں گے
اس گلشن کے رنگین پھول
بے نور اور سڑ جائیں گے


منگل، 30 ستمبر، 2014

ناکام

تم پہلے تو نہیں
نہ ہی آخری ہو گے
تھے اور، اور بھی ہونگے
جو ان راستوں پر رینگے
جہاں آج تم ہار بیٹھے ہو
وقتی طور سہی
سطحی طور سہی
مگر ہار بیٹھے ہو

چلو اٹھو
اٹھو، چلو
کہ یہ وہ مقام نہیں
جہاں بےبسی پہ رویا جائے
کم ہمتی، سست روی پہ رویا جائے
وہ جگہ تو ابھی, بہت دور ھے
وہاں پہنچتے پہنچتے ذرا وقت لگتا ھے
وہ جگہ جہاں لوگ ہارتے ہیں
جہاں غم سے، زلف کی خم سے
ہارنے والے پہچانے جاتے ہیں
بے بس، واقعی بے بس ہوتے ہیں
بےکس اصل میں بےکس ہوتے ہیں
ابھی وقت ہے مرے دوست ابھی وقت ہے 
تم اس ہار تک نہیں پہنچے
ناکام کے مقام پر نہیں پہنچے


اتوار، 14 ستمبر، 2014

الفاظ

قید ہر شئی ہے جذبات میں یہاں
الفاظ دے کر مجھے آزاد کیا تو نے

اتوار، 7 ستمبر، 2014

سفرِِ مسلسل کے مسافر


اے سفرِِ مسلسل
ٹھر ایک پل
ٹھر!
کہ ایک پل میں رہ گئے ہیں
کچھ بےسمت مسافر
بحربیکراں سے بیزار ہو کر
گمشدگی کی آس لیے
تکھے تھکے سے بدحواس مسافر
اپنے سایے کا سہارا لئے
فنائیت میں بقا کا دلاسہ لئے

انکے لئے ٹھر

ہفتہ، 6 ستمبر، 2014

مجذوب


مرے یار کے سینے میں
رازداروں کا علوم ھے

کچھ پل اور بِتانے دو
کہ دل بہت مغموم ھے

کوئی بات تو ہوگی یعنی
یاں اتنا جو ہجوم ھے

آئے ہیں خستہ حال سبھی
معمار کی بہت دھوم ھے

اسے راکھ نہ بولو ناظر
آگ تھی، جو معدوم ھے

بات جو مست کرگئی  محفل
اُسی ہاتھ سے مرقوم ھےTop of Form




اتوار، 31 اگست، 2014

سہارے


الجھن ایک،  اوجھل ھے
سینہ سارا،  بوجھل ھے

اک اَنا ھے جس کی رضا نہیں
پر من کو تو منع نہیں
لکھ بھیجو کی سامان نہیں
جس کے سہارے جی سکیں